ابنا: رپورٹ کے مطابق ان مذاکرات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور امریکہ کی جانب سے امریکی نائب وزیر خارجہ ویلیم برنز نیز یورپی یونین میں خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ کی سکریٹری ہیلگا اشمید شامل تھیں۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ان مذاکرات میں جو پانچ گھنٹوں تک جاری رہا ایٹمی مذاکرات میں پیش کئے گئے مسائل کا تفیصلی جائزہ لیا گيا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات مثبت اور تعمیری فضا میں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی ایران اور امریکہ کے درمیان مختلف مسائل میں اختلافات اور فاصلے موجود ہیں اور ان فاصلوں کو کم کرنے کے لئے کافی کوشش کرنی ہوگي۔ انہوں نے کہا ہمارے مد مقابل کو سخت فیصلے کرنے ہوں گے تاکہ ہمارے مطالبات کو قبول کرسکے اور ملت ایران کے حقوق تسلیم کرلے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ہم ان مذاکرات کے سہارے ملت ایران کے پرامن ایٹمی حقوق کو ثابت کرنے کے علاوہ اور کوئي ہدف نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ توقع کی جارہی تھی کہ پہلے چھے ماہ میں حتمی معاہدہ ہوجائے گا لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو مذاکرات کی مدت میں مزید چھے ماہ کی توسیع کرنی پڑے گي تاکہ مذاکرات جاری رہ سکیں۔ واضح رہے ایرانی وفد گيارہ اور بارہ جون کو روم میں روسی حکام سے مذاکرات کرے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ دیگر ملکوں سے بھی ایرانی وفد کے مذاکرات کا پروگرام ہے۔ ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے آئندہ مذاکرات چھبیس سے تیس جون تک ویانا میں ہوں گے۔
.......
/169